26 اکتوبر 2013 - 20:30
سعودی حکومت متعصب وہابیوں کو باز رکھے/ تشیع کے خلاف لاکھوں کتب کی تقسیم مہمان نوازی کی شرط نہیں

آیت اللہ العظمی مکارم نے سعودی حکومت سے مطابلہ کیا ہے کہ ان وہابیوں کو باز رکھے جو مہمان نوازی کا لحاظ نہيں رکھتے اور مہمانوں کے خلاف ساٹھ لاکھ کتابیں تقسیم کرتے ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے احاطے میں واقع مسجد اعظم میں درس خارج فقہ کے آغاز پر سینکڑوں طلبہ اور فضلاء سے خطاب کرتے ہوئے حالیہ برسوں میں تشیع کی بے مثال تابناکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ان چند سالوں کے دوران عاشورا کا دامن وسیع تر ہوگیا ہے اور یہ چند سال ماضی سے بالکل مختلف تھے اور عید غدیر کے مراسمات بھی بہت زيادہ شان و شوکت سے منعقد کئے جاتے ہیں اور حضرت امام زمانہ(عج) کے سلسلے میں بھی بہت وسیع و عریض پروگرام منعقد ہورہے ہیں۔ انھوں نے کہا: ہمیں بھی اپنے ان مراسمات میں زیادہ روی اور کام چوری اور افراط و تفریط کا شکار نہيں ہونا چآہئے کیونکہ یہ رویئے ولایت کے سلسلے میں منعقدہ روحانی اور معنوی تقریبات و مجالس کم اثر یا بے اثر ہوجاتے ہیں اور اگر یہ مراسمات غلط مسائل کے ساتھ خلط ملط ہوجائیں تو ان کا الٹا اثر ہوگا اور ان کی عظمت کم ہوکر رہ جائے گی۔ انھوں نے "فرہنگ جامع احادیث امام ہادی(ع)" نامی کتاب کے صفحہ 432 سے ایک حدیث نقل کی اور کہا: مروی ہے کہ ایک شخص امام ہادی(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور امام(ع) کی ثنا خوانی میں زیادہ روی سے کام لیا تو امام(ع) نے فرمایا: اپنے کام سے کام رکھو اور زیادہ چاپلوسی کرو گے تو میں تم پر بدگمان ہوجاؤں گا، جب تم اپنے بھائی پر اعتماد اطمینا رکھتے ہو تو چاپلوسی کو ترک کرو اور خوش بین رہو (حسن ظن رکھوں۔ انھوں نے کہا: تملق کا مسئلہ ان بلاؤں میں سے ہے جو انسانی معاشروں میں قدیم الایام سے موجود ہے اور آج بھی موجود ہے؛ حتی بعض لوگ جانتے ہیں کہ ان کی چاپلوسی کے وقت جھوٹ بولا جاتا ہے لیکن پھر بھی چاپلوسی کو پسند کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چاپلوسی کی وجہ سےشخصیت اور چاپلوس لوگ طاقت و اقتدار حاصل کرتے ہیں اور شخصیت کے مالک افراد دیوار سے لگائے جاتے ہیں۔ آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے سعودی انتظامیہ کے حکم پر حج کے دوران شیعیان آل رسول(ص) اور مکتب تشیع کے اصولوں اور اعتقادات کے خلاف ساٹھ لاکھ کتب کی تقسیم پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: اس کام پر اربوں ریال اخراجات آۃے ہیں لیکن ان کتب کا مضمون اور محتوی جھوٹ اور تہمت ہے اور میں بعید جانتا ہوں کہ سعودی حکومت اس طرح کے کاموں کی طرف مائل ہو بلکہ متعصب وہابی جو سعودی حکومت کے مختلف شعبوں پر قابض ہیں اور ثقافتی و تعلیمی امور کو اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے ہیں، پے درپے ناکامیوں کا انتقام لینا چاہتے ہیں؛ گوکہ اس کام کا کوئی اثر نہیں ہے خواہ وہ چھ کروڑ کتابیں کیوں نہ شائع کریں۔ انھوں نے کہا: شیعہ انسانوں کے قاتل نہیں ہیں؛ صالحین کی قبروں کو تباہ نہیں کرتے، بلکہ ایک منطق اور ایک پروگرام کے تحت کارم کرتے ہیں چنانچہ جھوٹ اور تہمت کے ذریعے مکتب اہل بیت(ع) کا راستہ نہيں روکا جاسکتا تاہم یہ کام بہت بھونڈا اور بھیانک ہے کہ ہم کسی کو اپنے گھر آنے کی دعوت دیں اور ساٹھ لاکھ کتب اس کے خلاف شائع کریں!آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے حجاج کرام کو ضیوف الرحمن قرار دیا اور کہا: ہم بہرصورت سعودی عرب کے مہمان ہیں اور کوئی بھی منطق اجازت نہيں دیتی کہ مہمان کی اس طرح سے توہین و بےحرمتی کی جائے اور پھر اجازت بھی نہ دی جائے کہ ایک کتاب ان کتب کے جواب میں لکھی جائے اور شائع کی جائے؛ یہ ٹولے اتحاد و یکجہتی کے ایام میں نفاق اورتفرقہ کا بیج بوتے ہیں گوکہ ان کا یہ نامعقول کام بے اثر ہے؛ سعودی حکمرانوں کو جان لینا چاہئے کہ ان کے مفاد میں نہيں ہے کہ متعصبین اس طرح کے اعمال انجام دیتے رہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭